ابنا: سرکاری اور بین الاحکومتی اداروں،عوامی رویوں کی صلاحیتوں اور مالیات کو تارکین وطن چیلنج کر رہے ہیں۔خلیج ٹائمز میں شائع ایک مضمون کے مطابقحال ہی میں بحیرہ روم کے ساحلوں کے ساتھ شمالی افریقہ چھوڑ کرجنوبی یورپ کی طرف نقل مکانی دیکھنے میں آئی۔یہ غیر معمولی منتقلی یورپی یونین کی بنیادوں کو چیلنج ہے اور ان کے لیے یہ ایک جھٹکا ہے۔رپورٹ کے مطابق فرانس اور اٹلی کے درمیان اس نقل مکانی سے سفارتی تناوٴ دیکھنے میں آیا جب کہ ان کے درمیان 1985 ء کے شینگن معاہدہ 25 ممالک کے درمیان آزادانہ نقل و حرکت کی ضمانت اور چالیس کروڑ لوگوں کی آزادانہ نقل مکانی کی اجازت دیتا ہے۔ نصف صدی قبل دنیا بھر میں تارکین وطن کی تعداد 7کروڑ 70لاکھ تھی ،جو تین گنا اضافے کے ساتھ اب21کروڑ40لاکھ ہو گئی ہے۔اس میں تقریباً دو فیصد سالانہ اضافہ ہوا ہے۔اگراس طرح نقل مکانی کا رجحان رہا تو وسط صدی تک تارکین وطن کی تعداد 50کروڑ سے زیادہ ہو جائے گی۔ دنیا بھر میں پناہ گزینوں کی تعداد ایک کروڑ50لاکھ ہے جس میں50لاکھ صرف فلسطینی پناہ گزین ہے۔ مغربی ممالک میں معاشی بحران اور مصر،لیبیا اور تیونس میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں سے بھی پناہ گزینوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز